معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 166669

میں نے سود کی شکل میں دو لاکھ روپئے قرض لیے ہیں اس کو جلدی سے چکابھی دیاتو اس سود کے پیسہ سے کمائی ہوئی یا منافع ہوا اور پورے سالوں سال تک وہ منافع اس سود پہ لیے ہوئے قرض کی وجہ سے ہے تو کیا وہ منافع پیسہ حلال ہے یا حرام؟ اور منافع والا پیسہ ایک بہت بڑی پونجی کی شکل میں تیار ہے اور اس سے بزنس چل رہاہے۔ براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔

Published on: Nov 6, 2018

جواب # 166669

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:234-158/sd=2/1440



سودی قرض سے کمایا ہوا نفع حرام نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں اگرآپ نے سودی قرض سے کسی جائز کاروبار کے ذریعہ جو نفع کمایا، وہ حلال رہے گا؛ البتہ سودی قرض لینے کا گناہ ہوگا، جس سے توبہ استغفار کرنا ضروری ہے ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات