معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 165526

کیا بزنس کے لیے بینک سے پیسہ قرض لینے کے لیے اپنے مکان کو مورگیج (رہن) میں رکھنا درست ہے؟بینک عام طورپر اس رقم کو کمپنی کے بزنس اکاؤنٹ میں پیسہ ٹرانسفر کرتاہے، اس کے بعد ہی کمپنی کے بزنس میں اس رقم کا استعمال کیا جاسکتاہے، مثال کے طورپر بینک پہلے جائیداد کی قیمت کا اندازہ لگاتاہے اور پھر اس کی قیمت طے کرتاہے اور پھررقم بزنس اکاؤنٹ میں کرتاہے، اگر کوئی پیسہ استعمال نہیں کیا گیا تو کوئی اجافی چارج لگتاہے اورایک خاص مدت تک جتنی رقم کا استعمال ہوگا اسی حساب سے اس پر چارج لگے گا، ممکن ہے کہ وہ چارج سود ہو؟

Published on: Oct 6, 2018

جواب # 165526

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:81-32/sd=1/1440



بزنس کے لیے بینک جو مکان یا کوئی دوسری پراپرٹی وغیرہ رہن پر لے کر قرض دیتا ہے ، وہ سودی قرض ہوتا ہے ،سودی قرض لینا شریعت میں ناجائز و حرام ہے ، احادیث میں سودی لین دین پر سخت وعید آئی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں بینک سے سودی قرض لینا جائز نہیں ہے خواہ مکان رہن پر رکھ کر قرض لیا جائے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات