معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 161781

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل کے مسئلہ میں کہ:
مثلاً زید کسی غیر مسلم سے بات کر رہا تھا اور بات بینک اور لون کی چل رہی تھی، غیر مسلم نے کہا کہ بینک قسطوں میں پیسہ دیتی ہے تاکہ نئی کالونی کی ترقی کو دیکھ سکیں۔ ایک ساتھ میں نہیں دیتی۔ تو اس کے جواب میں زید نے کہ ”ہاں! ورنہ کالونی بیچ میں ہی بنانا بند ہو جائے تو بینک کو نقصان ہوگا، صحیح ہے“، تو کیا یہ الفاظ ”صحیح ہے“ کہنا گناہ ہوگا؟ ایمان میں کچھ فرق آئے گا؟ کیونکہ بینک سودی لون دیتی ہے۔

Published on: May 22, 2018

جواب # 161781

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1072-984/M=9/1439



زید نے جواب میں جو کچھ کہا اس سے مقصود اگر بینک کے سودی نظام کی تائید کرنا تھا تو اس طرح کہنا غلط ہوا اس سے توبہ کرے اور آئندہ سودی معاملے کی تائید نہ کرے اور اگر مقصود صرف یہ کہنا تھا کہ بینک والے جو قرض ایک ساتھ نہیں دیتے ہیں بلکہ قسطوں میں دیتے ہیں تاکہ بینک کو نقصان نہ اٹھانا پڑے اس لئے یہ نظام صحیح ہے تو اس طرح کہنے میں کوئی گناہ نہیں ہوا لیکن آئندہ احتیاط رکھے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات