معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 161268

میرے ایک ساتھی ہیں جو متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتے ہیں، ان کے پاس ایک کار ہے، جو انہیں کمپنی کے ذریعہ سے ہیرے خریدنے یعنی کرائے پر قرض کی صورت میں لی ہے، ا س میں جو بھی ایگریمنٹ بنا ہے ا س کے اصول وغیرہ زیادہ تر ہماری یہی بینکنگ لون کی ہی طرح ہے مگر اس ایگریمنٹ میں کہیں بھی سود (انٹریسٹ) کا ذکر نہیں ہے، جب کہ معاملات پورے ایک ہی ہیں جو یہاں کا بینک کار لون لینے پر کرتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا صرف لفظ کے بدل جانے سے تمام معاملات بھی بدل جاتے ہیں؟ کچھ اسی طرح سے ہمارے ملک میں بجاج فائنانس (Bajaj Finance) نامی کمپنی کر رہی ہے۔ اگر آپ کو مہنگا موبائل فون یا کوئی الیکٹرانک سامان چاہئے اور وہ بھی قسطوں پر، تو آپ اس کمپنی کا کارڈ بنالیں، یہ کمپنی ایک ایکسٹرا اماوٴنٹ آپ سے لے گی جس کو وہ پروسیسنگ اماوٴنٹ کہتی ہے اور جو اماوٴنٹ کا سامان ہوگا اس کا 25% وہ لے گی ڈاوٴن پیمنٹ (بیعانہ) کی صورت میں، باقی 75% آپ قسطوں میں ادا کریں۔ اس میں بھی وہ کہیں انٹریسٹ لفظ کا استعمال نہیں کر رہی جب کہ وہ تشہیر کرتے ہیں کہ ”انٹریسٹ فری میں کچھ بھی سامان لیں“، صرف ایک اماوٴنٹ ہم سے لے رہی ہے وہ بھی پروسیسنگ چارجیز کے نام پر۔ یہ معاملہ کہاں تک درست ہے؟

Published on: May 15, 2018

جواب # 161268

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:908-783/N=8/1439



(۱): صرف لفظ اور نام بدلنے سے حکم نہیں بدلتا، حکم حقیقت بدلنے سے بدلتا ہے؛البتہ آپ کے ساتھی نے عرب متحدہ امارات میں جس طریقہ کار پر بینک سے کار لی ہے، اس کی مکمل تفصیل مع ایگریمنٹ پیپر ارسال فرمائیں تب اس کے سودی معاملہ ہونے، نہ ہونے کا حکم شرعی تحریر کیا جائے گا۔



(۲):بجاج فائنانس کمپنی خود اپنی ملکیت کا سامان قسطوں پر فروخت کرتی ہے یا سامان کوئی دوسری کمپنی فروخت کرتی ہے اور بجاج فائنانس کمپنی گاہک کی طرف سے مابقیہ پیسہ ادا کرکے اس سے پروسیسنگ چارجز کے نام سے مزید وصول کرتی ہے؟ دونوں میں جو صورت ہو، صحیح معلومات کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں ، اس کے بعد ہی آپ کے سوال کا بھی جواب دیا جائے گا إن شاء اللہ تعالی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات