معاملات - سود و انشورنس

pakistan

سوال # 161240

حضرت میرا تعلق پاکستان سے ہے لیکن ایک نہایت اہم مسئلہ پوچھناہے ،یہاں ٹیلی نار اور جائز سمیت مختلف نیٹ ورک کی موبائل سمیں استعمال کی جاتء ہیں..ٹیلی نار اور جائز سمیں بالترتیب ایزی پیسہ اور جائز کیش کے نام سے اکاونٹ آفر کرتیں ہیں، وہ یہ آفر دیتی ہیں کہ اگر 1000 روپے سے زیادہ اپنے اکاونٹ میں بیلنس رکھو تو جب تک بیلنس رہے گا آپ کو روزانہ کے کچھ فری منٹس ملیں گے یہ بیلنس ضرورت پڑنے پہ آپ موبائل اکاونٹ سے حکومتی یا کمپنی ٹیکس دے کر واپس لے سکتے ہو،کچھ علماء یہاں تک مسئلہ سن کہتے ہیں کہ یہ سود ہے کیونکہ آپ نے قرض رکھ کے فری منٹس بطور منافع کے لیے ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو روپے واپس لینے پہ ٹیکس دینا پڑتا ہے جس میں ظاہری بات ہے کہ کمپنی بھی کچھ روپے رکھتی ہو گئی اور پیسے پورے واپس نہیں ملتے ہیں اور کمپنی ایسا اپنے کسمٹر بڑھانے کیلئے لالچ میں یہ آفر دیتی ہیں اور وہ منٹس عارضی ہوتے ہیں اسی نیٹ ورک یعنی اسی کمپنی کیلئے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی یہ بھی شرط عائد کر دیتی ہیں کہ مہینہ میں ایک بار کچھ محدود رقم کسی کو بھیجنی ہو گی،وغیرہ اور یہ آفر ہمیں اہنا نیٹ ورک کے استعمال کی وجہ سے ہی دیتی ہوں گی۔ اب بتائے کہ ایسا کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ کیا ہم یہ آفر استعمال کر سکتے ہیں؟یا سود ہے اس مسئلہ کو وضاحت سے بتائیے گا۔

Published on: May 27, 2018

جواب # 161240

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:881-768/D=9/1439



اکاوٴنٹ میں ایک ہزار رکھنے کی شرط پر روزانہ جو فری منٹس ملتے ہیں یہ سود کی شکل ہے خواہ فری منٹس براہ راست استعمال میں لا ئے جائیں یا انھیں رقم کی شکل میں حاصل کیا جائے، بہرصورت یہ کل قرض جر نفعا فہو ربا میں داخل ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات