معاملات - سود و انشورنس

syria

سوال # 161120

حضرت، یہ پوچھنا ہے کہ موبائل کمپنی کہتی ہے کہ ہمارے اکاوٴنٹ میں ایک ہزار روپیہ رکھوائیں جب تک یہ پیسے پڑے رہیں گے کمپنی کسٹمر کو ایک ہزار ایم بی ، ایک ہزار ایس ایم ایس اور منٹس دیتی رہے گی۔
سوال یہ ہے کیا یہ سیونگ نہیں ہے شریعت کے لحاظ سے جو کہ سود ہے۔ برائے مہربانی بتائیں کہ ایک ہزار روپیہ جمع کروانا حرام ہے یا نہیں؟

Published on: May 20, 2018

جواب # 161120

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:942-885/M=9/1439



صورت مسئولہ میں کمپنی کے اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپیہ رکھوانے پر کمپنی جو ایک ہزار ایم بی، ایک ہزار ایس ایم ایس اور منٹس دے گی اس کی نوعیت اگر یہ ہے کہ وہ جمع کردہ رقم ایک ہزار روپئے ہم کیش (نقد روپئے) کی شکل میں نکلوا نہیں سکتے بلکہ اسے ہرحال میں کال، ایس ایم ایس، ایم بی وغیرہ استعمال کرکے ہی ختم کرنا پڑے گا تو ایسی صورت میں کمپنی کی طرف سے ملنے والی ایم بی، ایس ایم ایس اور منٹس کو استعمال کرسکتے ہیں اور اسکیم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور اگر صورت حال یہ ہے کہ ہمارے جمع کردہ پیسے (ایک ہزار) اکاوٴنٹ میں محفوظ رہتے ہیں ہم جب چاہیں اسے روپئے کی شکل میں نکلواسکتے ہیں تو ایسی صورت میں کمپنی کی طرف سے ملنے والی مذکورہ سہولیات سے فائدہ اٹھانا درست نہیں کیوں کہ یہ قرض کے بدلے نفع اٹھانا ہوگا جس سے منع کیا گیا ہے کل قرض جر نفعًا فہو ربا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات