معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 160597

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے متعلق زید کے اکاؤنٹ میں کچھ سود کی رقم رہتی ہے ، زید اس سودی رقم کو اپنی ملکیت سے نکالنے کے لئے اپنے پاس موجود نقد سے نکال دیتا ہے ، یعنی بنک کے اکاؤنٹ سے سود کی رقم نہ نکال کر اپنے پاس موجود نقد سے اس سود کی رقم کی نیت سے نکال دیتا ہے ، کیا اس طرح نکالنے سے سود کی رقم سے خلاصی ہو جاتی ہے ؟ اسی طرح زکوة کا مال بنک اکاؤنٹ میں ہے لیکن بنک سے کیش نہ نکال کر اپنے پاس موجود کیش سے زکوة کی ادائیگی کر دیتا ہے اور پھر اکاؤنٹ میں جمع زکوة کی رقم سے ادا کی ہوء رقم کے بقدر گھٹا دیتا ہے ، کیا اس طرح زکوة ادا ہو جاتی ہے ؟ بینوا توجروا

Published on: May 16, 2018

جواب # 160597

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:898-728/sn=8/1439



(۱) جی ہاں ! اکاوٴنٹ میں موجود ”سودی رقم“ کا حساب کرکے اگر اپنے پاس موجود رقم میں سے اتنی رقم سود کی رقم کی نیت سے صدقہ کردے تو ذمہ فارغ ہوجائے گا۔



(۲) اگر صاحب نصاب شخص کا پیسہ (جس کی زکات ادا کی جانی ہے) بینک میں ہو اور وہ شخص بینک میں جمع شدہ پیسوں میں سے رقم نہ نکالے؛ بلکہ اپنے پاس موجود دیگر رقم سے زکات ادا کردے تو زکات بلاشبہ ادا ہوجائے گی؛ کیونکہ ادائیگیٴ زکات کی صحت کے لیے قابل زکات مال واثاثہ کا اپنے ہاتھ میں ہونا ضروری نہیں ہے۔



نوٹ: اس سوال کا منشأ کچھ اور ہو تو پوری وضاحت کے ساتھ دوبارہ سوال کرلیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات