معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 160375

میں نے ویب سائٹ پر فتاویٰ کا مطالعہ کیا تو الحمدللہ یہ بات واضح ہوئی کہ انٹرسٹ کے رقم کو گورنمنٹ ٹیکس، انکم ٹیکس، غریب حاجت مند مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مدد میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس انٹرسٹ کے رقم کو بینک کے منیمم بیلینس مینٹیننس، ٹرینسیکشن چارج یا کئی پروسیسنگ فیس جیسا کہ سالانہ اے ٹی ایم چارج، ایس ایم ایس الرٹ چارج وغیرہ پر استعمال کیا سکتا ہے یا نہیں؟ براہ کرم وضاحت کر دیں۔ خیرا!

Published on: Apr 19, 2018

جواب # 160375

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:889-786/H8/1439



منیمم بیلنس کے متعلق تحقیق یہ ہوئی کہ کھاتہ میں جو رقم جمع رکھنا قانوناً لازم ہے اگر زیادہ رقم نکالنے پر وہ مقدار گھٹ گئی تو بینک جرمانہ کی رقم عائد کردیتا ہے اسے منیمم بیلنس کہتے ہیں اگر اس جرمانہ والی رقم کو اداء کرنے کے لیے بینک کا سود دیدیا تو اس کی گنجائش ہے اس کے علاوہ جتنے چارجز آپ نے لکھے ہیں وہ سب کھاتہ داروں کے فوائد حاصل کرنے میں لگائے جاتے ہیں، پس ان میں بینک سے حاصل شدہ سودی رقم دینا جائز نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات