معاملات - سود و انشورنس

??????

سوال # 160359

خالد نے زید اور عمر سے سو سو روپیہ قرض لیا، اس کے بعد زید نے بکر کو ایک کتاب سو روپیہ میں بیچی، اب اگر بکر زید کو نقد سو روپیہ فوراًدیدیتا ہے تب تو معاملہ صاف ہے ، لیکن خالد نے زید سے یہ کہا کہ کہ زید تیرا میرے اوپر سو روپیہ قرض ہے ، میں اس میں سے بکر کو کتاب کی قیمت دیدیتا ہوں، ایک سو دس روپیہ دوں گا۔
دریافت طلب چیز یہ ہے کہ مقروض خالد کی طرف سے زید اور بکر کو جو دس دس روپیہ بلا کسی عوض مل رہے ہیں، وہ حلال ہیں یا حرام؟

Published on: Apr 19, 2018

جواب # 160359

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:886-785/H=8/1439



خالد (مقروض) اپنے مُقرض (زید) کو نہ دے کر سو روپئے کتاب کی قیمت اور زائد دس روپئے بکر (مشترئ کتاب) کو دے گا تو خالد کی طرف سے زید اور بکر کو دس دس روپئے ملنے کی کیا شکل ہے؟ بکر سو روپئے زید کو دیدے گا تو دس روپئے اُس کے پاس بچے، زید کو دس روپئے زائد کس طرح ملیں گے؟ اُس کو اضح کرکے دوبارہ معلوم کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات