معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 158409

حضرت مفتی صاحب! میرے کچھ سوال ہیں۔
(۱) میرا سیونگ اکاوٴنٹ سرکاری بینک میں ہے تو کیا اس سے ملنے والا سود کیا میں ہاوٴس ٹیکس اور جب ہم کوئی آن لائن ٹرانسلیشن کرتے ہیں تو اس وقت ایک سروس ٹیکس لگتا ہے تو کیا ہم یہ سود وہاں پر جمع کرسکتے ہیں؟ اور اگر نہیں! تو اس سود کا کیا کرنا چاہئے؟
(۲) میں کریڈیٹ کارڈ استعمال کرتا ہوں مگر اس کا بل ۴۵/ دن پہلے ہی جمع کردیتا ہوں مگر وہ پرائیویٹ بینک کا ہے، تو کیا پرائیویٹ بینک کا کریڈیٹ کارڈ استعمال کیا جاسکتا ہے؟ یا صرف سرکاری بینک کا ہی استعمال کرنا چاہئے؟

Published on: Feb 10, 2018

جواب # 158409

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 473-422/sd=5/1439



 (۱) ہاوٴس ٹیکس یا سروس ٹیکس میں سودی رقم صرف کرنا جائز نہیں ہے ، سودی رقم کا مصرف یہ ہے ثواب کی نیت کے بغیر مفلوک الحال غریب مسکین کو دیدی جائے ، حکومت کے ناواجبی ٹیکس میں بھی سودی رقم صرف کی جاسکتی ہے ۔ (۲) اگر کریڈٹ کارڈ کا بل وقت پر اداء کردیا جائے ، جس کی وجہ سے سود اداء کرنے کی نوبت نہ آئے ، تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے ، خواہ وہ سرکاری بینک کا ہو یا پرائیویٹ بینک کا ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات