معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 157929

میرے والد صاحب گھر کے ہیڈ ہیں اور وہی گھر میں فیصلہ کرتے ہیں، میرے پاکیٹ خرچ کے بعد وہ میری تنخواہ لے لیتے ہیں اور خود فیصلہ کرتے ہیں اس سے کیا کرنا ہے، انہوں نے اپنے اور میرے نام سے ہوم لون لیا ہے ۔ میں ہمیشہ ان کو کہتاہوں کہ اس لون کو ادا کرکے اس لون سے نجات پالیں ، مگر وہ میری بات نہیں سنتے ہیں، اور لون کی قسط میرے بینک اکاؤنٹ اور میر ی تنخواہ سے کٹ جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مجھ سے اس گناہ کے بارے میں پوچھ ہوگی؟ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Jan 25, 2018

جواب # 157929

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:381-372/SD=5/1439



لون لینا شریعت میں ناجائز و حرام ہے ، صورت مسئولہ میں آپ اپنے والد صاحب کو مسئلہ بتا دیں اور جلد از جلد لون اداء کر کے ذمہ فارغ کرلیں ، اگر وہ ماننے کے لیے آمادہ نہ ہوں، تو آپ اپنی تنخواہ میں سے لون کی قسط کٹوانے سے معذرت کردیں ،ورنہ آپ بھی گناہ گار ہوں گے ،والد صاحب کو آپ کی اجازت کے بغیرآپ کی تنخواہ میں تصرف کرنے کا شرعا حق نہیں ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات