معاملات - سود و انشورنس

india

سوال # 157752

مفتی صاحب مجھے مکان لینے کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی کچھ پیسے تو میرے پاس تھے لیکن میرے پاس تین لاکھ روپے گھٹ گئے میں نے اپنے تعلق والے لوگوں سے پیسے کا انتظام کرنا چاہا لیکن کسی نے بھی مجھے پیسے نہیں دیے تو کیا میں بینک سے لون لے سکتا ہوں؟ میں بینک سے جو پیسے لونگا ان پر مجھے تقریبا 6 فیصدی سود دینا ہوگا جتنا بینک کا سود بنے گا اس کے برابر سود کا پیسہ میری بینک میں پڑا ہوا ہے جو میری بینک میں تنخواہ آتی ہے اس پیسے پر بڑھ جاتا ہے ہم ایسا نہیں چاہتے لیکن جو پیسہ بینک میں لکھا جاتا ہے اس پر بینک والے سود لگاتے ہیں تو کیا میں بینک سے پیسے لے کر جواصل پیسے بینک نے دیے تھے انہیں ان کو واپس کروں گا اور جو سود کا پیسہ ہے جو اسی بینک کا ہے وہ اس پیسے کو سود کی رقم کے طور پر کاٹ لیں گے اور مجھے الگ سے سود کے لئے پیسے نہیں دینے پڑیں گے ۔ مفتی صاحب کیا میرا ایسا کرنا شریعت کی طرف سے جائز ہے ؟

Published on: Jan 15, 2018

جواب # 157752

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:483-441/L=4/1439



سودی قرض لینا شرعاً ناجائز وحرام ہے ،حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آئی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے ،سود لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ عن جابرقال:لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال:ہم سواء․(مشکاة:۲۴۴) اس لیے اگر آپ نے ابھی مکان نہیں لیا ہے تو کچھ اور توقف کرلیں اور جب انتظام ہوجائے(خواہ قرض کے ذریعہ ہو) اس وقت مکان خریدیں۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات