معاملات - سود و انشورنس

Saudi Arabia

سوال # 157200

حضرت، کوئی شخص این آر آئی (NRI) اکاوٴنٹ بینک میں کھلواتا ہے، اور انڈین روپئے سیونگ اکاوٴنٹ میں جمع کرتا ہے۔ اس سیونگ اکاوٴنٹ میں بینک سال میں سود کی شکل میں کچھ رقم ڈال دیتی ہے۔ جب کہ اکاوٴنٹ کھولنے والے نے بینک سے کوئی ایگریمنٹ نہیں کیا ہے کہ وہ کتنے فیصد (%) سود لینا چاہتا ہے یعنی اس نے سود کا کوئی ذکر ہی کیا ہے، ایسی رقم کا استعمال کرنا حلال ہے یا حرام ؟ جزاک اللہ

Published on: Dec 21, 2017

جواب # 157200

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:306-256/sd=3/1439



سیونگ اکاوٴنٹ میں بینک جو سود دیتا ہے، اس کا استعمال جائز نہیں ہے؛ بلکہ سودی رقم کو نکال کر ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب کو دینا ضروری ہے۔



نوٹ: اکاوٴنٹ کھلوانے والے نے اگرچہ سودی لین دین کا کوئی ایگریمنٹ نہیں کیا لیکن سیونگ اکاوٴنٹ پر بینک کی جانب سے سود کا دیا جانا ایک معروف ومتعارف طریقہ ہے؛ لہٰذا المعروف کالمشروط کی بنیاد پر اکاوٴنٹ کھلوانے والا گویا بینک کے طریق کار اور شرط کو تسلیم کرتاہے۔ (د)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات