معاملات - سود و انشورنس

pakistan

سوال # 156930

موجودہ وقت لوہے کا ریٹ ٣٠ روپے فی کلو ہے مے یہ لوہا ٤٠ روپے کلو 6 مہنے کی ادھار پے دے دو تو یہ سود ہوگا یہ نہیں

Published on: Dec 25, 2017

جواب # 156930

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:252-287/sd=4/1439



نقد کے مقابلہ ادھار بیچنے پر زیادہ رقم لینا درست ہے ، بشرطیکہ معاملہ ہوتے وقت ہی اجرت کی تعیین ہوجائے ، لہذا صورت مسئولہ میں چھ مہینے کے ادھار پرچالیس روپے کلو کے حساب سے لوہا فروخت کرنا جائز ہے ، یہ سود نہیں ہے ۔



وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا، وبالنقدکذا، أو قال إلی شھر بکذا أو إلی شھرین بکذا فہو فاسدٌ … وہٰذا إذا افترقا علی ہٰذا، فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرّقا حتّٰی قاطعہ علیٰ ثمن معلوم وأتما العقد علیہ فہو جائز الخ (المبسوط للسرخسی ۱۳:۷، ۸، ط: دار المعرفة بیروت)، وکذا إذا قال: بعتک ہٰذا العبد بألف درہم إلی سنة أو بألف وخمسة إلی سنتین؛ لأن الثمن مجہول، فإذا علم ورضی بہ جاز البیع؛ لأن المانع من الجواز ہو الجہالة عند العقد، وقد زالت فی المجلس ولہ حکم حالة العقد، فصار کأنہ معلوم عند العقد (بدائع الصنائع ، کتاب البیوع،جہالة الثمن ۴:۳۵۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،أن للأجل شبہا بالمبیع ألا یری أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل (الہدایة ۳:۷۸)،أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجّل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجّل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد (بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة،ص ۷)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات