معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 156662

فتوی آئی ڈی: 154683 قسم: معاملات عنوان: غیر واجبی ٹیکس میں سود کی رقم دینا سوال: میں ایک آئی ٹی کنسلٹینسی کمپنی میں شعبہ آئی ٹی میں کام کررہا ہوں ، میری تنخواہ انکم ٹیکس وضع ہونے کے بعد میرے اکاؤنٹ میں آتی ہے ، اس کے علاوہ ہم روز مرہ کی زندگی میں سامان کا ٹیکس دیتے ہیں، اب جی ایس ٹی نافذ ہونے سے ہمیں زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے سیونگ اکاؤنٹ میں بینک کی طرف سے ملی سودی رقم کو اپنے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟
اب مجھے یہ جاننا ہے کہ ہماری کمپنی سرکاری نہیں ہے اور ہمارے بینک بھی پرائیویٹ ہیں، تو کیا اس صورت حال میں بھی وہ سعودی پیسہ استعمال میں لانا جائز ہوگا؟ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Dec 31, 2017

جواب # 156662

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:378-408/H=4/1439



آپ کی کمپنی سرکاری نہیں ہے اور بینک بھی پرائیویٹ ہے تو ایسی صورت میں ملنے والے سود کو اپنے استعمال میں نہیں لے سکتے بلکہ کل سودی رقم بلانیت غرباء فقراء، مساکین اورمحتاجوں کو وبال سے بچنے کی نیت کرکے دیدیا کریں، البتہ جی ایس ٹی میں دیا ہوا ٹیکس اگر آپ کا کوئی سرکاری بینک میں کھاتہ ہو اور جی ایس ٹی میں دیئے ہوئے ٹیکس کے بقدر سرکاری بینک سے ملے ہوئے سود کو استعمال میں لے آئیں تو اس میں گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات