معاملات - سود و انشورنس

india

سوال # 152485

کیا میں بینک سیونگ اکاوٴنٹ سے ملے سود کے پیسوں کا استعمال ٹیکس اور غریبوں کے علاوہ کسی اور جگہ کر سکتا ہوں؟ یا میں اپنے کسی کام میں سودی پیسوں کا استعمال کر سکتا ہوں؟ کیونکہ ایک سال میں ملی سودی رقم چار ہزار روپئے میرے بہت کام آسکتے ہیں۔
برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں تاکہ ان پیسوں کا استعمال میں صحیح جگہ کر سکوں۔

Published on: Jun 24, 2017

جواب # 152485

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 915-748/D=9/1438



اپنے کسی کام میں سودی پیسوں کا استعمال جائز نہیں ہے، بینک سے ملنے والے سود کو غیر واجبی ٹیکس مثلاً انکم ٹیکس وغیرہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے، نہ کہ واجبی ٹیکس مثلاً ہاوٴس ٹیکس میں۔ اسی طرح بلانیت ثواب غربا کو دے دیں۔



باقی ٹیکس اور غربا کے علاوہ دوسری جگہ سے مراد آپ کی کیا ہے، اُسے واضح کریں؟



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات