معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 146674

مسئلہ یہ ہے کہ کیا سود کا پیسہ کسی ایسے مندر کے خرچ میں دینا جائز ہے جس کا ٹرسٹ مسلمانوں کی دکانوں میں پیسہ مانگنے کے لئے آتا ہے اور نہ دینے کی صورت میں زبردستی کرتے ہے اور کوئی چیز اٹھا کر چلے جاتے ہے اور پولس بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی اور نہ دینے کی صورت میں کاروبار کے لئے وہ ہمیشہ درد سر بن جاتے ہیں براہ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

Published on: Dec 21, 2016

جواب # 146674

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 243-225/B=3/1438



 



سود کا پیسہ مال خبیث اور حرام ہے بلا نیت ثواب اس کو لُٹے پٹے خستہ حال اور پریشان حال لوگوں کو دیدیں مندر کو دینا جائز نہیں، مندر کے لیے مانگنے والے اگر زبردستی کریں اور نہ دینے پر کوئی قیمتی سامان لے کر جبراً چلے جاتے ہیں تو آپ اپنی حیثیت سے ان لوگوں کو اس نیت سے دیدیجئے کہ ان کو ہبہ کرکے انہیں مالک بنادیجئے، پھر وہ مالک ہونے کے بعد جس کام میں چاہیں لگائیں، مندر کی نیت سے نہ دیں، اس طرح آپ مندر کی اعانت سے بچ جائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات