معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 146189

ایل آئی سی پالیسی میں ۲۳/ ہزار سالانہ ڈپوزٹ سولہ سال کے لیے ہے ، پالیسی کی واپسی میں تیرہ لاکھ ہوتے ہیں اس پالیسی کے مکمل ہونے پر۔
کیا اسلام میں اس طرح کی رقم کا استعمال جائز ہے؟

Published on: Nov 28, 2016

جواب # 146189

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 137-088/sd=2/1438



ایل آئی سی ( جیون بیمہ)) کرانا سود و قمار کی وجہہ سے شرعاً حرام ہے؛ تاہم اگر کسی نے لائف انشورنس کرالیا،تورقم کی واپسی کے وقت جمع کردہ رقم کے بقدر ہی استعمال کرنا جائز ہوگا، اس سے زائد رقم کا استعمال جائز نہیں ہے، زائد رقم کو بلا نیتِ ثواب فقراء کو دینا لازم ہے۔ قال اللّٰہ تعالیٰ: ﴿اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة، جزء آیت: ۲۷۵)قال اللّٰہ تعالیٰ: ﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُضَاعَفَةً﴾ (اٰل عمران، جزء آیت: ۱۳۰)قال اللّٰہ تعالیٰ: ﴿یَأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ﴾ (البقرة: ۲۷۸)قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: ﴿فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ﴾ (البقرة، جزء آیت: ۲۷۹) عن عبدالله بن عمرو رضي اللّٰہ عنہ أن نبي اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہی عن الخمر والمیسر۔ (سنن أبي داؤد ۲/۵۱۹)إن القمار الذي یزداد تارةً وینقص أخری وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ وہو حرام بالنص۔ (شامي ۲/۵۷۸زکریا)وإذا مات الرجل وکسبہ خبیث فالأولی لورثتہ أن یرد المال إلی أربابہ، وإن لم یعرفوا أربابہ تصدقوا بہ۔ (الفتاویٰ الہندیة ۵/۳۴۸)وأما إذا کان عند رجل مال خبیث، فإما إن ملکہ بعقد فاسد، أو حصل لہ بغیر عقد، ولا یمکنہ أن یردّہ إلی مالکہ، ویرید أن یدفع مظلمتہ عن نفسہ، فلیس لہ حیلة إلاَّ أن یدفعہ إلی الفقراء۔ (بذل المجہود، کتاب الطہارة / باب فرض الوضوء ۱/۳۵۹مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي مظفرفور أعظم جراہ، ۱/۱۴۸مصري، شامي ۹/۵۵۳زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات