معاملات - سود و انشورنس

Pakistan

سوال # 145430

میں پاکستان ”کوہٹ “کا شہری ہوں، یہاں ایک بینک ہے جس کا نام حبیب بینک لمیٹیڈ ہے، وہ ایک کرنٹ نام کا اکاوٴنٹ بنا کے دیتے ہیں جس کے تحت آپ کو ۲۵/ ہزار بیلنس برقرار رکھنے پر آپ کو تمام سروسیز مفت فراہم کی جاتی ہیں، آپ سے چیک بک کی فیس، اے ٹی ایم کارڈ کی فیس، ہر بار کسی بھی اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی فیس، بینکرس چیک کی فیس، ایس ایم ایس کی فیس، کچھ نہیں کاٹا جاتا، صرف اس شرط پر کہ آپ ان ۲۵/ ہزار سے اپنا بیلنس کو کم نہ ہونے دیں، اگر وہ کم ہوجائے تو آپ کو پورے مہینے کے ہر ٹرانزیکشن (لین دین)پر ۵۸/ روپئے کاٹ لئے جاتے ہیں، میرے دوست نے مجھے کہا یہ سود کی ایک قسم ہے، میں نے اپنے علاقے کے علماء سے رابطہ کیا (مولانا الیاس گھمن کے خصوصی شاگرد مفتی عبد الواحد جو اِکنامک(اقتصادی) اور جدید معیشت کے فتوی کوہنڈل ( غور و فکر ) کرتے ہیں)، ان سے عرض کیا تو انہوں نے مجھے اس اکاوٴنٹ کے استعمال سے منع کردیا، انہوں نے مثال دی کہ اس کی مثال ایک ٹیلیفون سروس پُرو وائڈ ٹیلی نار (telephone service provide TELENOR)کے اُس پیکیج کی سی ہے جس کے تحت آپ دو ہزار کا کم از کم بیلنس برقرار رکھنے پر روز کا ۶۰/ منٹ بات کرنے کے لئے پائیں گے، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ دونوں مذکورہ صورتیں عین سود ہیں اور اس سے بچنا سب مسلمانوں پر لازم ہے، لہذا میں نے بینک سے اپنا پیسہ نکال کر اس کا استعمال ترک کر دیا، اور پہلی فرست میں اس کو بند کرنے کی نیت بھی کر چکا ہوں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اسلام بہت واضح ہے، یا حلال ہے یا حرام اور ایک درمیان کے شک کی چیز ہے، اس کو بھی چھوڑ دو، میں نے چھوڑ دیا، اس پلیٹ فارم پر آپ سے اس لئے عرض کیا تاکہ بہت سارے میرے پاکستانی بہن بھائیوں کو بھی اس بات کا علم ہو اور میرا رہا سہا شک بھی رہنمائی ہو سکے او رمیں اللہ کی پکڑ سے بچ جاوٴں، آپ بینک کے شرائط و لوازمات کو خود دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی ویب سائٹ کی لنک ہے: http://www.hbl.com/hblfreedomaccount

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145430

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 065-056/L=2/1438



 



بینک میں جو رقم جمع کی جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور قرض دے کر نفع اٹھانا سود ہے اس لیے مفتی عبد الواحد صاحب نے جو بات بتائی ہے وہ صحیح اور درست ہے آپ اسی کے مطابق عمل کریں۔ ”وفی الاشباہ: کل قرض جر نفعا حرام، وفی الرد: ای إذا کان شروطاً“ الدر مع الرد ج: ۷/۳۹



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات