معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 111

بونڈ کی انعامی رقم جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے تو کس وجہ سے؟ براہ مہربانی ذرا تفصیل سے کتابوں کے حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Apr 16, 2007

جواب # 111

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 121/ل=120/ل)



انعامی بونڈ کے نام سے جوانعام دیا جاتا ہے وہ قمار (جوے) کی ایک شکل ہے اس لیے اس انعام سے ملنے والی رقم حرام ہے، اوراس کااستعمال ناجائز ہے۔ بینک جب انعامی بونڈ کی سیریز نکالتا ہے تو اس سیریز کے ذریعے جو رقم عوام سے کھینچتا ہے اس کو سودی قرض پر دے دیتا ہے۔ اور پھر قرض دار سے سود وصول کرکے کچھ اپنے پاس رکھتا ہے اور کچھ قرعہ اندازی (لاٹری) کے ذریعے (جو قمار کی ایک شکل ہے) انعامی بونڈ خریدنے والوں پر تقسیم کرتا ہے۔ اور اگر مان بھی لیا جائے کہ بینک اس پیسے کو جائز کاروبار میں لگاتا ہے تو تجارتی اور شرعی اصولوں کے مطابق پاٹنر شپ کے کاروبار میں جب نفع ہو تو اس نفع میں سے ہرشریک کو اسی تناسب سے حصہ ملنا چاہیے، جتنا اس نے روپیہ لگایا ہے جب کہ بینک نفع کی تقسیم قرعہ اندازی (لاٹری) کے ذریعے کرتا ہے۔ جس سے بہت سے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہونا یقینی بات ہے۔ لہٰذا انعامی بونڈ کی رقم ہراعتبار سے حرام ہے اور یہ درحقیقت سود اور جوے دونوں کا مرکب ہے، قال اللّہ تعالی: اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ (البقرة: ۲۲۵) یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ (المائدة:۹۱) ولا خلاف بین أہل العلم في تحریم القمار وإن المخاطرة من القمار . (أحکام القرآن للجصاص: ج۲ ص۱۱) قال ابن عباس المخاطرة قمار.


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات