عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 9580

میرا نام طہ ہے اور میں الحمد للہ دیوبندی ہوں اور مجھے اس بات کا فخر ہے کہ اللہ پاک نے مجھے اتنے اچھے عقیدوں سے نوازا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ دولہن کی رخصتی کے وقت دولہن کو قرآن شریف کے سائے میں رخصت کیا جاتا ہے تو کیا یہ صحیح ہے؟ میں نے اپنی کزن کی شادی میں دیکھا کہ جس میں اس دولہن کو قرآن شریف کے سائے میں رخصت نہیں کیا، تو کسی نے میری مامی سے پوچھا کہ آپ نے اسے قرآن کے سائے میں رخصت کیوں نہیں کیا؟ تو انھوں نے کہا کہ پتہ نہیں یہ صحیح بھی ہے کہ نہیں؟ اور ان کو کسی نے بتایاتھا کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ آپ ذرا تفصیل سے وضاحت کردیجئے کہ ایا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ کسی اسلامی دلیل سے یہ بات ثابت ہے یا نہیں؟

Published on: Dec 23, 2008

جواب # 9580

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 2294=2089/ د


 


دلہن کو قرآن شریف کے سایہ میں رخصت کرنے کی رسم شریعت سے ثابت نہیں ہے، اسے ترک کرنا چاہیے، اصل چیز قرآن کی تلاوت اوراس کے احکام پر عمل کرنا ہے، حضرات سلف رحمہم اللہ سے جو چیز ثابت ہے وہ یہ کہ ایک دوسرے کو رخصت کرتے وقت تقوے اور اعمال خیر کی وصیت و تاکید کرتے تھے، اسی نصیحت و تاکید کے ساتھ دلہن کو بھی رخصت کرنا چاہیے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات