عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 634

میں خرید و فروخت کے متعلق ایک اہم سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آج کل بہت ساری کمپنیاں ہیں جو قسطوں میں ادائیگی پر سامان بیچ دیتے ہیں اور وہ اصل قیمت سے زیادہ قیمت طے کرتے ہیں۔ اسی صورت سے میں ایک موٹر سائیکل خریدنا چاہتا ہوں ، جس کی اصل قیمت /-49000ہے، لیکن دو سال میں قسطوں پر ادائیگی کی صورت میں وہ /-56000 کی ہوجائے گی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حلال ہے یا حرام ؟ میرے ایک دوست نے بتایا کہ یہ جائز ہے، اگر وہ متعینہ قیمت لیں اور تاخیر کی صورت میں اضافی چارج نہ لگائیں ۔ اگر تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں اضافی چارج دینا پڑا تو یہ ناجائز ہوجائے گا۔ اگر یہ ناجائز ہے تو کیوں؟


والسلام

Published on: Jun 12, 2007

جواب # 634

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 352/ن=336/ن)


 


تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں اضافی چارج دینا تو سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ہی، لیکن دو سال میں موٹر سائکل کی اصل قیمت /-49000 کے بجائے /-56000 سات ہزار کے اضافہ کے ساتھ دینا بھی سود کی وجہ سے حرام ہے لقولہ تعالی ﴿اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ (بقرہ) اس کی جائز شکل یہ ہے کہ یا تو مثلا /-49000 یکبارگی ادا کردیں اگر اتنی وسعت ہو، ورنہ کمپنی والوں سے اس موٹر سائکل کو /-56000 ہی میں خریدو کہ کمپنی قسطوں میں وصول کیے جانے والے سات ہزار سود کو موٹر سائکل کی اصل قیمت میں شامل کرکے بجائے /-49000 کے /-56000 میں آپ کے ہاتھ فروخت کردے جس کی ادائیگی قسط وار دو سال میں کرنا ہوگی۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات