عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 5191

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام چاند اورسورج گرہن کے بارے میں۔ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اورچاند یا سورج گرہن ہوجائے تو اسے کن چیزوں کی رعایت کرنی چاہیے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

Published on: Jul 1, 2008

جواب # 5191

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 363=363/ م


 


بخاری شریف کی روایت ہے: إن الشمس والقمر لا یخسفان لموت أحد من الناس ولکنھما آیتان من آیات اللہ فإذا رأیتموھما فقُومُوا فصَلّٰوا (ترجمہ: بلاشبہ سورج اور چاند کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، لیکن وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم سورج چاند گرہن دیکھو تو کھڑے ہوجاوٴ اور نماز پڑھو۔? (بخاری: 142/1) اس روایت سے معلوم ہوگیا کہ سورج، چاند کا گرہن ہونا کسی کی موت و حیات کی بنا پر نہیں ہوتا، جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کا عقیدہ تھا، بلکہ ایسا ہونا قدرت الٰہی کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ آفتاب و ماہتاب کا مخلوق و عاجز ہونا لوگوں پر آشکارا ہوجائے۔ روایت بالا سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس خاص (گرہن) کے وقت میں لوگوں کا عمل کیا ہونا چاہیے، حاملہ عورت کے لیے بھی وہی حکم ہے جو دیگر لوگوں کے لیے ہے یعنی جب تک گرہن رہے نماز میں مشغول رہنی چاہیے۔ اللہ کی حمد وکبریائی اور پاکی بیان کرنی چاہیے۔ اور ذکر و اذکار، توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات