عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 5037

اگر بدعات کی دو قسمیں ہیں ایک حسنہ اور دوسری سیئہ ، ایسے تو ہر ایک اپنی بدعتوں کو حسنہ کہے گا اور دوسروں کی بدعتوں کو سیئہ کہے گا، تو پھر یہ فیصلہ کس طرح کیا جائے کہ کون سی بدعت حسنہ ہے اور کون سی بدعت سیئہ ہے؟ حدیث میں تو آتا ہے کہ ساری بدعتیں گمراہی ہیں، ظاہر بات ہے کہ حدیث میں تو اصطلاحی بدعت کے بارے میں کہا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بدعت اصطلاحی ہوتی ہے صرف سیئہ ہے۔ مہربانی کر کے تفصیلی مدلل جواب دیں۔

Published on: Jul 28, 2008

جواب # 5037

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1282=1129/ ب


 


جس فعل شرعی کا سبب اور محرک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہو اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو نہ صحابہٴ کرام کو اس کے کرنے کا حکم دیا ہو۔ اور نہ ترغیب دی ہو، دین سمجھ کر ایسا کام کرنا بدعت ہے، جیسے مروجہ میلاد کا سبب (حضور کے زمانہ میں) موجود تھا۔ اور صحابہٴ کرام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرا عشق اور عقیدتو محبت تھی اس کے باوجود کسی نے آپ کا یوم ولادت منایا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا۔


(۲) شریعت نے جو چیز مطلق رکھی ہے اس میں اپنی طرف سے قیودات لگانا بدعت ہے، جیسا کہ زیارت کے لیے وقت مقرر کرنا، ایصالِ ثواب کے لیے وقت متعین کرنا، مثلاً سیوم، چہلم۔


(۳) جو کام بذاتِ خود مستحب و مندوب ہے، مگر اس کا ایسا التزام کرنا کہ رفتہ رفتہ اس کو ضروری سمجھا جانے لگے اور اس کے تارک کی ملامت کی جانے لگے تو وہ کام مستحب کے بجائے بدعت بن جاتا ہے۔ مثلاً نماز جمعہ، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی اور دوسری رکعت میں ہل اتاک حدیث الغاشیة پڑھنا مسنون ہے، مگر اس کا التزام کرنا کہ لوگ اس کو ضروری سمجھنے لگیں، بدعت ہے۔


(۴) جو کام فی نفسہ جائز ہے اگر اس کو کرنے میں کفار و فجار اور گمراہ لوگوں کی مشابہت لازم ہو تو اس کا کرنا ناجائز ہے، اس قاعدہ سے معلوم کہ تمام وہ اعمال جو اہل بدعت کا شعار بن جائیں، اس کا ترک لازم ہے۔ مزید تفصیل کے لیے الاعتصام (للعلامة الشاطبی) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔


 


بدعت سب ہی مذموم اور قابل ترک ہیں جو کسی نے اسے حسنہ سے تعبیر کردیا تو اس سے لغوی معنی مراد ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات