عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 36883

کیا درگاہ پر جانا اور نیاز تقسیم کرنا اور ان سے مانگنا جائز ہے یا ان کا وسیلہ کرنا ناجائز ہے؟

Published on: Feb 1, 2012

جواب # 36883

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(م): 367=367-3/1433

اولیاء اللہ کے وسیلے سے دعا کرنا ناجائز نہیں ہے، لیکن ان ہی سے مانگنا اور ان کو متصرف فی الامور سمجھنا ناجائز اور حرام ہے، إن ظن أن المیت یتصرف في الأمور دون اللہ تعالیٰ واعتقادہ ذلک کفر (شامي) قبروں کی زیارت گاہے بگاہے کرنی چاہیے، اس سے موت ارو آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے؛ لیکن ایسے مزار یا درگاہ پر جانا جہاں قبروں کا سجدہ ہوتا ہو، چادر، پھول وغیرہ چڑھایا جاتا ہو، خرافات اور شرکیہ کام ہوتے ہوں، عورتوں اور مردوں کا اختلاط ہو مکروہ ہے۔ ایسے درگاہوں پر جانے سے بچنا چاہیے۔ غیر اللہ کے لیے نذر ونیاز بھی ناجائز اور باطل ہے، واعلم أن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام وما یوٴخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوہا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقربًا إلیہم فہو بالإجماع باطل وحرام إھ (شامي زکریا: ۳/۴۲۷)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات