عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 35942

فتوی عالمگیری ، جلد نمبر پانچ ، صفحہ نمبر 301/ میں ہے کہ اگر کوئی اپنے والدین کی قبر کو محبت اور عقیدت میں بوسہ لے تو کوئی حرج نہیں۔ کیا والدین کی قبر کو بوسہ لینا جائز ہے یا نہیں؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

Published on: Dec 21, 2011

جواب # 35942

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(م): 107=107-1/1433

عالمگیری میں مذکورہ مسئلہ جلد نمبر ۵ ص نمبر ۳۵۱ پر ہے، عبارت یوں ہے: ولا یمسح القبر ولا یقبلہ فإن ذلک من عادة النصاری ولا بأس بتقبیل قبر والدیہ کذا في الغرائب۔ اصل مسئلہ شروع میں بیان کردیا گیا ہے کہ قبر کو بوسہ لینا ممنوع ہے کیونکہ یہ نصاری کی عادت ہے اور مسلمانوں کو ان کی مشابہت سے بچنا چاہیے، نیز بوسہ لینے میں سجدہ کی کیفیت پائی جاتی ہے، اور قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے، بوسہ لینے میں چاہے سجدہ مقصود نہ ہو لیکن ظاہری ہیئت موہم شرک ہے اس لیے عام حالات میں اس سے بچنا چاہیے، ہاں اگر کوئی تنہائی میں فرطِ محبت وعقیدت کی بنا پر والدین کی قبر کو بوسہ لے تو غریب روایت کی بنا پر اس کی گنجائش ہے، لیکن اس کی عادت نہ بنائے، اور عام لوگوں کے سامنے ایسا نہ کرے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات