عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 172296

مروجہ قرآن خوانی بدعت ہے کیا اس میں دعاء کرانے جا سکتے ہیں یاوہاں صرف کھانا کھانے جانا کیسا ہے جبکہ وہ دعوت کریں نیز اگر مدرسہ کے بچے میت یا کسی اور کے گھر پر جمع ہوکر قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کردیں اور ان کے لئے ناشتہ وغیرہ کا نظم نہ ہو تو کیا اس میں کچھ گنجائش ہے نیز اگر محلہ کی عورتیں جمع ہو کر قرآن پڑھیں تو اس میں کوئی حرج ہے؟

Published on: Aug 25, 2019

جواب # 172296

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1278-1131/H=12/1440



مروجہ قرآن خوانی کہ جس میں حفاظ و قراء کو اہتمام سے جمع کیا جاتا ہے نیز اس میں اور دیگر التزام و قیود بھی ہوتے ہیں۔ ایسی رسمی قرآن خوانی میں جمع ہوکر پڑھنے اور پڑھوانے والوں ہی کو کچھ ثواب نہیں ملتا تو وہ دوسروں کو کہاں سے پہونچا دیں گے ایسی رسمی قرآن خوانی میں دعاء کرانے اور کھانا کھانے کے لئے جانا بھی جائز نہیں محلہ کی عورتیں جمع ہوکر قرآن خوانی کریں اس کا حکم بھی وہی ہے کہ جو مردوں کی قرآن خوانی کا ہے اور اس کا بدعت ہونا آپ کو بھی معلوم ہے۔ ایصال ثواب کی بہتر و بے غبار صورت یہ ہے کہ جو شخص جب چاہے جہاں چاہے جتنا چاہے قرآن کریم پڑھ کر درود شریف نوافل پڑھ کر کسی غریب مسکین محتاج کی ضرورت پوری کرکے مسجد مدرسہ وغیرہ میں ضرورت کا سامان دے کر یہ نیت کر لیا کرے کہ یا اللہ اس کا ثواب فلاں فلاں کو پہونچا دیجئے اس طرح ایصال ثواب میں نہ لوگوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہے نہ کھانے ناشتہ وغیرہ کا انتظام کرنے کی حاجت ہے مدرسہ کے بچوں کو جمع کرنے میں تو اور بھی مفاسد ہیں بسااوقات ان کی تعلیم و تربیت کا نقصان ہوتا ہے بچوں کے ماں باپ اعزہ کی تکلیف کا موجب ہے بہت سے لوگ بھی بچوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے بعض لوگ حقارت کی بھی نظروں سے دیکھتے ہیں اس لئے مدرسہ کے ذمہ داران کو بچوں کے بھیجنے سے صاف معذرت کردینا چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات