عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 169650

آج کل شادی کے معاملہ میں بہت ساری بے جا رسموں کو ادا کیا جاتا ہے جیسے لڑکی کے ہاتھ میں پیسے دینا، منگنی کرنا، عیدین کے موقع پر عیدی کی خاص تقریب کرنا، دولہا کو جوتا لنگی کے نام پر رقم دینا، لڑکی کیلئے نکاح کا جوڑا دولہا کی طرف سے اور دولہا کا جوڑا دلہن کی طرف سے لانا، ان تمام رسومات کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کی زندگی سے نکاح کا خاص اور رسم و بدعات سے پاک طریقہ بھی درج فرمائیں۔

Published on: Apr 18, 2019

جواب # 169650

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 708-612/D=08/1440



شادی سادی ہونی چاہئے مسجد میں نکاح ہو جائے اور لڑکا ایک دو آدمی کے ساتھ جاکر لڑکی کو رخصت کرا لائے شب عروسی کے بعد اگلے دن ولیمہ کر دیا جائے جوکہ سنت ہے جس میں لڑکے کے دوست احباب اور اعزا کو حسب حیثیت و گنجائش مدعو کرلیا جائے۔



باقی وہ بیجا قسم کی پابندیاں اور رسوم جو شادی سے آگے پیچھے لڑکے سے متعلق لڑکی سے متعلق کہیں بارات و منگی سے جوڑ کر کہیں رخصتی چوتھی وغیرہ سے جوڑ کر شادی کا جز بنادی گئی ہیں اس میں بہت ساری رسمیں تو ہندووٴں کے یہاں سے منتقل ہوئی ہیں جیسے سہرا مکنا ، منڈھا ، بارات وغیرہ اور بہت ساری رسموں میں منکرات اور گناہ کے کام پائے جاتے ہیں جیسے منہ دکھائی ، جوتا چرائی وغیرہ کی رسمیں کہ نامحرم لڑکے لڑکیوں کا بالمشافہہ آمنے سامنے ہوکر ہنسی مذاق کرنا وغیرہ اور بہت سی رسمیں ریا نمود تفاخر پر مبنی ہوتی ہیں جو کہ نا جائز اور حرام ہیں اور ان کے علاوہ بیشمار رسمیں اسراف و فضول خرچی کو متضمن ہوتی ہیں یہ سب رسوم قبیحہ ہیں۔



پس شادیوں میں ایسی رسوم قبیحہ کو ترک کرنا چاہئے تفصیل ان رسوم اور ان کے حکم کی اصلاح الرسوم اور اسلامی شادی میں پڑھی جاسکتی ہے ہم نے اجمالاً کچھ حکم لکھ دیا۔ ”اصلاح الرسوم“ اور ”اسلامی شادی“ دونوں کتابیں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی تصنیفات وافادات ہیں اور بازار میں دستیاب ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات