عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 167217

ہم لوگ باہر سے آکر ویلور ٹملناڈو میں رہتے ہیں اور عالم دین بھی ہیں ماشائاللہ۔ ہم لوگ یہاں منصب امات پر فائز ہیں اور پانچ دس ائمہ پر مشتمل اپنی ایک ٹیم خالص اس غرض سے تشکیل دی ہوئی ہیں کہ ہمیں کوئی قرآن خوانی کے لئے بلائے ، اور ہم بطور معاوضہ قرآن خوانی کی رقم طئے بھی کر لیتے ہیں ، بسا اوقات کسی وجہ سے طئے نہیں بھی کر پاتے ہیں اور مقررہ رقم سے ہمیں کچھ کم مل جاتی ہے تو ہم تیوری چڑھانے لگتے ہیں مفتیان شرع متین سے سوال ہے کہ شرعاًہمارایہ عمل جائز ہے ؟ ناجائز ہے ؟ یا حرام ہے ؟ اور ایصال ثواب کا صحیح طریقہ قرآن و حدیث میں کیسا ہے ؟

Published on: Dec 17, 2018

جواب # 167217

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 398-349/M=4/1440



اجتماعی قرآن خوانی کا مروجہ طریقہ خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے لائق ترک ہے نیز قرآن خوانی کے عوض روپیہ لینا جائز نہیں ہے چاہے صراحةً طے کرکے لیا جائے یا لین دین کا رواج ہو، حصول دنیا کے لئے قرآن پڑھنے والوں کو ثواب نہیں ہوتا اور جب پڑھنے والوں کو ثواب نہیں ملتا تو وہ مرحومین کو کس طرح ایصال ثواب کرسکتے ہیں۔ اس لئے قرآن خوانی پر معاوضہ لینے اور مروجہ طریقے پر قرآن خوانی کرنے سے احتراز لازم ہے۔ ایصال ثواب کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر حسب موقع تلاوت کرکے میت کو ثواب پہونچا دیا کریں یا صدقہ و خیرات کرکے یا دیگر کارخیر کے ذریعہ ثواب پہنچا دیا کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات