عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 161382

حضرت مفتی صاحب! شب برأت کی حقیقت کیا ہے؟ رات کا جاگنا اور صبح روزہ رکھنا؟ رجب کی ۲۶-۲۷/ کا روزہ رکھا جاتا ہے، ا س کی کیا حقیقت ہے؟ یہ بدعت تو نہیں ہے؟

Published on: May 21, 2018

جواب # 161382

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 932-810/B=9/1439



یہ فیصلہ کی ر ات ہے یعنی اللہ کے لکھے ہوئے مقدرات کی اس شب میں تجدید ہوتی ہے اور مغفرت کی رات ہے، اس رات میں جس سے جس قدر ہو سکے اپنے گھر میں اللہ سے مغفرت کی دعا کرے؛ عبادت کی رات ہے جس قدر جس سے ہو سکے اپنے گھر میں بیٹھ کر نوافل پڑھے یا قرآن کی تلاوت کرے۔ حدیث شریف میں آیا ہے قُومُوا لَیْلَہَا وصُومُوا نَہَارَہا۔ یعنی رات میں جس قدر ممکن ہو( اپنے گھر میں تنہائی کے اندر) نوافل پڑھو، اللہ سے مغفرت کی دعا کرو اور اگلا دن یعنی پندرہویں تاریخ میں ہو سکے تو ایک روزہ رکھ لو۔ یہ سب کام فرض و واجب نہیں ہیں۔ اسی طرح اس شب میں اکٹھا اجتماعی طو رپر خوب چہل پہل کے ساتھ مسجد میں جمع ہونا یہ بھی ثابت نہیں۔ اس رات میں رت جگا کرنا، چہل پہل کرنا، آتش بازی کرنا اچھے کھانے حلوہ وغیرہ بنانا یہ سب شیعوں کا طریقہ ہے وہ لوگ اس لئے چل پہل کرتے ہیں کہ ان کے یہاں وہ دن امام غائب کی پیدائش کا دن ہے اس لئے وہ لوگ اجتماعی طور خوشیاں مناتے ہیں۔ ہم سنی مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔ گھر کی تنہائی میں بیٹھ کر نوافل پڑھ لیں اور جی چاہے تو اگلے دن ایک نفلی روزہ رکھ لیں۔ اور ۲۷/ ویں رجب کو جو روزہ رکھا جاتا ہے وہ اسلام میں ثابت نہیں۔ اس سے بچنا چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات