عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 161202

کیا فرما تے ہیں علمائے دین ہزاری روزہ کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں؟

Published on: May 15, 2018

جواب # 161202

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:926-791/N=8/1439



۲۷/ ویں رجب کے روزے کا ہزار روزوں کے برابر ہونا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں اور اس سلسلہ میں جو بعض روایات پیش کی جاتی ہیں، وہ یا تو موضوع ہیں یاحد درجہ ضعیف ہیں؛ اس لیے ۲۷/ رجب کے روزے کو ہزاری روزہ جان کر روزہ رکھنا درست نہیں۔ اور بعض لوگ جو اس روزے کو واجب وضروری سمجھتے ہیں، یہ بالکل غلط اور بدعت ہے، اس دن روزے سے احتراز چاہیے؛ البتہ اگرکوئی شخص ہرپیر کو روز رکھتا ہے اور ۲۷/ رجب کو پیر ہو تو وہ حسب معمول نفلی روزہ رکھ سکتا ہے، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛لیکن لوگوں پر اپنے روزے کااظہار نہ کرے ورنہ کسی شخص کو یہ خیال آسکتا ہے کہ یہ ہزاری روزہ رکھ رہا ہے(فتاوی رشیدیہ، ص: ۴۵۴، ۴۵۵، مطبوعہ: گلستاں کتاب گھر، دیوبند، فتاوی محمودیہ ، ۳:۲۸۰، ۲۸۱، جواب سوال: ۹۴۸، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات