عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 160590

کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں، کچھ علاقوں میں لڑکی کی شادی پر لڑکی والوں کو ان کے رشتہ داروں یا پڑوسیوں یا جان پہچان والوں کی جانب سے کچھ چیزیں پیش کی جاتی ہیں مثلا 'فریج' وغیرہ اس امید کے ساتھ کہ جب ہماری بیٹی کی شادی ہو گی وہ بھی یہ چیزیں پیش کریں گے ۔نہ تو جہیز ہے نہ ہی ہدیہ بلکہ یہ ایک طرح کا قرضہ ہے لڑکی والوں پر جو ان کو دینے والوں کی شادی میں لوٹا نا ہے ۔اور یہ سب خرچہ کو بانٹنے کے لئے کیا جاتا ہے تاکہ لڑکی والوں پر ایک ساتھ بہت زیادہ خرچہ نہ اٹھا نا پڑے ۔کیا یہ سب جائز ہے ؟ نیزان چیزوں کی قیمت واپسی کے وقت زیادہ ہوتی ہے لینے کے وقت کے مقابلے میں۔مثلا 40000 کا فریج چار سال کے بعد 45000 کا ہو جاتا ہے تو اس بڑھی ہوئی رقم کا کیا حکم ہے ؟

Published on: Apr 22, 2018

جواب # 160590

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:829-711/N=8/1439



یہ ایک محض رسم ہے اور اس میں عام طور پر معاشرتی اعتبار سے دباوٴ بھی پایا جاتا ہے، جس کی بنا پر بہت سے لوگ محض رسم میں دیتے ہیں، خوش دلی سے نہیں دیتے ؛ اس لیے دین دار حضرات کو چاہیے کہ ایسی رسمیں ختم کریں۔ اور اگر کوئی شخص محض خوشی میں یاتعاون کے طور پر کچھ دینا چاہتا ہے تو شادی کے علاوہ کسی اور موقع پر خاموشی کے ساتھ دیدے اور اپنے یہاں بچی کی شادی میں کوئی امید نہ رکھے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات