عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

india

سوال # 160408

مزار پر جو عرس ہو تے ان کے آخری دن قل نام کی رسم ادا کی جاتی ہے جس میں شرکت کرنے اور کچھ آیات پڑھ دینے کا کیا حکم ہے اور جبکہ آپس میں انتشار کا اندیشہ ہو اور عرس کرانے والے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ لوگ نہیں آئیں گے تو پھر ہم بدعتی لوگوں کو دوسری جگہ سے بلا لیں گے اور آپ کے کسی بھی کام میں شامل نہیں ہو ں گے ایسے حالات میں کسی عالم کا قل کی مجلس میں شرکت کا کیا حکم ہے ؟

Published on: Apr 18, 2018

جواب # 160408

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:809-742/M=7/1439



مزار کے پاس کھڑے ہوکر کچھ آیات پڑھ کر اہل قبول کو ایصال ثواب کردینا فی نفسہ منع نہیں ہے، ایصالِ ثواب جائز اور ثابت ہے لیکن مزاروں پر عرس منانا، پھول اور چادریں چڑھانا، اگر بتی جلانا وغیرہ یہ ممنوع اور بدعت ہیں، شریعت سے ان چیزوں کا ثبوت نہیں، عرس کے آخری دن جو قل کے نام سے رسم ادا کی جاتی ہے یہ بھی بدعت کا ایک حصہ ہے حتی الامکان اس سے بھی بچنا چاہیے، رسوم وبدعات کی مجلسوں میں علماء کی شرکت سے غلط چیزوں کی تائید ہوتی ہے، اس لیے علماء خود بھی بچیں اور دوسرے لوگوں کو بھی حکمت، موعظت، نرمی اور حسن تدبیر سے روکنے کی کوشش کریں، نیت میں اخلاص ہو اور ہرکام میں اتباع سنت وشریعت ہو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات