عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Bangladesh

سوال # 158105

حضرت مفتی صاحب! میں نے کچھ معلومات حاصل کی ہیں۔
(۱) حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اپنی کتاب ”فیصلہ ہفت مسئلہ“ میں فرماتے ہیں کہ وہ مجلس میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں شامل ہوتے اور اس کا اہتمام کرتے تھے۔ نیز اپنے محبوب پیغمبر کو کھڑے ہوکر سلام بھیجتے تھے۔
(۲) مولانا رشید احمد گنگوہی اپنی کتاب ”فتاوی رشیدیہ“ میں فرماتے ہیں کہ مجلس میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جائز اور مباح ہے۔
(۳) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”اصلاح الرسوم“ میں فرماتے ہیں کہ مجلس میلاد انبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جائز ہے مگر یہ کسی ممنوعہ شئی اور شرط سے خالی ہو۔
(۴) حضرت مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”اخبار الاخیار“ میں فرماتے ہیں کہ وہ میلاد اور قیام میں شامل ہوتے تھے۔ اور بہت سے دارالعلوم کے فارغ التحصیل علماء مثلاً مولانا قاسم نانوتوی، مولانا احمد علی سہارن پوری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا خلیل احمد سہارن پوری، مفتی شفی رحمہم اللہ عنہم اور دوسرے لوگوں نے میلاد اور اس کے قیام کی اجازت دے رکھی ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ :
۱- کیا یہ تمام معلومات سچی ہیں یا جھوٹی؟
۲- کیا میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اہتمام کرنا اور کھڑے ہونا یا اپنے محبوب پیغمبر کو کھڑے ہوکر سلام بھیجا جائز ہے؟ مستحب ہے؟ یا بدعت ہے؟ یا منع ہے؟

Published on: Jan 27, 2018

جواب # 158105

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:558-512/H=5/1439



(۱) آپ کی معلومات جھوٹی تو نہیں البتہ ناقص ضرور ہیں، احسن الفتاوی کی دسویں جلد میں بعنوان ”فیصلہ ہفت مسئلہ کی وضاحت“ کے تحت مدلل ومفصل کلام تقریباً بارہ صفحات (از ص۴۳تا ۵۴) پر مشتمل موجود ہے، اس کو بغور سات آٹھ مرتبہ پڑھ لیں اور ہفت مسئلہ کہ جس میں حضرت اقدس مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی اور حضرت اقدس حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہما اللہ تعالیٰ کے ضمائم لگے ہوئے ہیں اس کا مطالعہ کرلیں اُس کے بعد جو اشکال رہے اس کو لکھیں۔



(۲) حضرت اقدس شیخ عبد الحق صاحب محدث دہلوی (ب) حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتوی (ج) حضرت مولانا حسین احمد مدنی (د) حضرت الحاج مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری (ھ) حضرت اقدس مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہم اللہ تعالیٰ رحمة واسعہ کے ارشاداتِ عالیہ جو میلاد اور اس میں قیام سے متعلق جناب کی نظر سے گذرے ہیں ان سب کو بحوالہ نقل فرماکر پھر جو کچھ معلوم فرمانا چاہتے ہیں اس کو صاف صحیح وضاحت سے لکھیں اس کے بعد ان شاء اللہ جواب مفصل ومدلل لکھا جائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات