عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 157110

بارہ ربیع الاول کوبعض لوگ جشن عیدمیلادالنبی مناتے ہیں،جلوس نکالتے ہیں،اس میں کعبہ شریف کی شبیھیں اورگنبدخضراء کی شبیھیں بناتے ہیں،اس کے اردگردچکر لگاتے ہیں،ان کایہ عمل کیسا ہے ؟ کیااس جلوس میں شرکت جائز ہے ؟

Published on: Dec 31, 2017

جواب # 157110

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:374-38T/L=4/1439



 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس حالات اور سیرتِ مبارکہ کا ذکر کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن اور افضل الاذکار (کفایت المفتی: ۱۶۱/۱)؛ البتہ خاص /۱۲ربیع الاول کے دن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر جلسہ اور وعظ کا اہتمام کرنا سلَفِ صالحین،حضراتِ ائمہ سے منقول نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل ومناقب بیان کرنے کے لیے ماہِ ربیع الاول یا اس مہینے کی کسی تاریخ کی تخصیص نہیں ہے ؛ بلکہ سال بھر کے تمام مہینے اور تمام ایام میں یہ خدمت انجام دینا ارو اس عمل خیر کو عمل میں لانا یکساں موجب ثواب ہے ؛ اس لیے خاص /۱۲ربیع الاول کے دن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر جلسہ اور وعظ کا اہتمام نہ کیا جائے ،اسی طرح اس دن جلوس نکالنا، جھنڈے اور نعرہ کے ساتھ سڑک پر چلنا یہ غیروں کا طریقہ ہے جس سے بچنے کا ہمیں حکم ہے ، قال علیہ السلام: من تشبّہ بقومٍ فہو منہم۔نیز کعبہ شریف اور گنبد خضراء کی شبیہیں بنانا اور اس کے اردگرد چکر لگانا ناجائزہے ؛لہذا ایسے جلوس میں شرکت جائز نہیں۔



عن عائشة رضی اللّٰہ عنہا قالت قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ، فہو رد (صحیح البخاری، کتاب الصلح، رقم: ۲۶۹۷) لا أعلم لہذا المولد أصلا فی کتاب ولا سنة، ولا ینقل عملہ عن أحد من العلماء الأئمة الذین ہم القدوة فی الدین المتمسکون بآثار المتقدمین؛ بل ہو بدعة أحدثہا البطالون، س اعتنی بھا الآکلون۔ (الجنة لأہل السنة، ص: ۲۰۱، بحوالہ: محمودیہ: /۵ ۳۹۵، ط: زکریا)وقال الکشمیری: المولود الذی شاع فی ہذا العصر۔۔۔۔۔۔ لم یکن لہ أصل من الشریعة الغراء۔۔۔ (العرف الشذی، ص ۲۳۱، أبواب العیدین، باب ماجاء فی التکبیر) وفی المدخل:ومن جملة ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر، ما یفعلونہ فی شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدعٍ ومحرمات جمة۔( المدخل ۲: ۳)ومنہا ․․․ وضح الحدود والتزام الکیفیات والہیئات المعیّنة فی أوقاتٍ معینةٍ لم یوجد ذلک التعیین فی الشریعة (الاعتصام: ۳۹/۱)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات