عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 1563

بعض لوگ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور محافل میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں، قرآن وسنت اورائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔

Published on: Aug 12, 2007

جواب # 1563

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  368/ج = 368/ل)


 


(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہروقت باعث خیر اور موجب نزول رحمت خداوندی ہے، البتہ اس کے لیے دن کی تخصیص کرنا کہ وہ ولادت ہی کا دن ہو اس کا ثبوت نہیں، حدیث شریف کی کتابیں اِس عید میلاد کے ذکر سے خالی ہیں، نیز دیگر مفسدات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کا ترک ضروری ہے۔


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس حالات اور سیرت مبارکہ کا ذکر کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن اور افضل الاذکار ہے، لیکن مروجہ محافل میلاد جس نوعیت سے منعقد کی جاتی ہیں اس کا وجود صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے زمانے میں نہیں تھا: إن عمل المولود بدعة لم یقل بہ ولم یفعلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والخلفاء والائمة (الشرعة الإلٰہیة: بحوالہ کفایة المفتي: ج۱ ص۱۵۷) نیز دیگر خرافات مثلاً روایات موضوعہ منکرہ بیان کرنا، بیان کرنے والے کا اکثر غیر متشرع فساق و فجار ہونا، قیام بوقت ولادت کو ایک فریضہ شرعیہ قرار دے کر اس کے تارک کو لعن وطعن کرنا، وغیرہ وغیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے یہ مجلس بدعت ضلالہ اس کا ترک ضروری ہے: ومن جملة ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادھم أن ذلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر ما یفعلونہ في شھر ربیع الأول وقد احتوی علی بدع و محرمات (المدخل: ج۲ ص۳، ط مصر)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات