عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 148596

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مرید اپنے پیر کے ہاتھ یا پاوٴں کو چومتا ہے اور اس کی تعظیم میں جھکتا ہے، ان کی مدح اس قدر کرتا ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ شاید اس کو کسی اور کی تعریف کرنا نہیں آتی ہو، حتی کہ حضور نے اپنے سامنے جھکنے کو بھی منع فرمایا۔ یہ طریقہ کیسا ہے؟ نیز ایک مرید کو اپنے پیر سے کس حد تک لگاوٴ اور محبت ہونی چاہئے؟

Published on: Feb 16, 2017

جواب # 148596

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 615-602/M=5/1438



(۱) عقیدت و محبت میں مرید اپنے پیر کے ہاتھ کو چوم سکتا ہے لیکن پاوٴں چومنے کے لیے جھکنے سے احتراز کرے اور پیر کی ایسی مدح و تعریف سے بھی بچے جو کذب بیانی اور غلو پر مشتمل ہو۔



(۲) پیر کو اپنا مصلح اور مربی سمجھے، ان سے سچی محبت اور قلبی تعلق رکھے، اور اپنے احوال سے باخبر کرتا رہے فتاوی دارالعلوم میں ہے: درمختار میں ہے: وکذا مایفعلونہ من تقبیل الأرض بین یدي العلماء والعظماء فحرام والفاعل والراضی بہ آثمان لأنہ یشبہ عبادة الوثن الخ پس کسی کے قدم چومنے سے اس وجہ سے احتراز کرے کہ اس میں تقبیل مذکور کی جوکہ حرام ہے، مشابہت ہے اور دین کے بارے میں احتیاط لازم ہے۔“ (فتاوی دارالعلوم دبوبند ۱۷/ ۲۱۸) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات