عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

india

سوال # 147952

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ہمارے کسی علماء حق نے یہ کہا ہو کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنم دن منانا ایسا ہی ہے جیسے کسن کنہیا کا جنم دن منانا، اور پھر اس پر علماء حرمین نے فتوی دیا ہو کہ ایسے کہنے والے لوگ کافر ہیں، اور پھر حرمین علماء نے صفائی پیش کی ہو، اگر ایسا ہوا ہے تو پوری تفصیلی سے معاملہ بھیجیں۔ اللہ آپ کو اور مجھے حق پر جمائے رکھے۔ آمین

Published on: Mar 9, 2017

جواب # 147952

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 204-424/sd=6/1438



 اسلام میں کسی کی ولادت پر خوشی منانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اگر سرور عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا دن خوشی کے لیے مقرر ہوتا، تو دور نبوت اوردور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس کا ضرور ثبوت ہوتا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق اور جاں نثار تھے، اس کے باوجود دور صحابہ یا اس کے بعد کبھی بھی آپ کے ولادت کے دن کو تہوار کے طور پر نہیں منایا گیا۔ باقی سوال میں آپ نے جو تفصیلات لکھیں ہیں ہمیں ان کے بارے میں نہیں ہیں۔ إن عمل المولد بدعة لم یقل بہ ولم یفعل رسول اللّٰہ ا والخلفاء والأئمة۔ (الشرعیة الإلٰہیة بحوالہ: راہ سنت ۱۶۴) ومن جملة ما أحد ثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذلک من أکبر العبادات وإظہار الشرائع یفعلونہ في شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جمة الخ۔ (المدخل ۲/۳بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۳/۱۶۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات