عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 147531

ربیع الاول کے مہینہ کی تخصیص کرکے سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ و خلوس کا انعقاد کرنا اور ماہ ربیع الاول کے آنے سے پہلے عوام کو خبردار کرنا اور ان سے مشورہ کرکے جلسہ کیلئے ربیع الاول کی تاریخ طے کرنا اور خصوصی اہتمام کے ساتھ اجتماعی جلسوں کا شیڈول ترتیب دینا کہ ایک ہی اشتہار میں اپنے علاقہ کی مختلف مساجد میں ربیع الاول میں روز و شب جلسوں کی ترتیب رکھنا اور عوام کو فضائل سنا کر جلسوں کے اخراجات چندہ کرکے وصول کرنا جیسے شرکاء کے کھانے پینے خطیبوں اور مقررین کے اخراجات و وظائف و ہدایا کیلئے چندہ وصول کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں؟

Published on: Jan 9, 2017

جواب # 147531

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 407-388/M=4/1438



آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنا ہرمومن کے لیے لازم ہے؛ لیکن سچی محبت اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ وہ شرعی اصولوں سے نہ ٹکراتی ہو، اس میں شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ تمام لوگوں کے لیے رحمت وسعادت کا ذریعہ ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر بیان وتقریر کرنا کارِ ثواب ہے لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو، ۱۲/ ربیع الاول کی تاریخ کو خاص کرکے میلاد النبی کے عنوان سے جشن وتہوار منانا،جلسے جلوس کا اہتمام کرنا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام سے، صحابہٴ کرام سے بڑھ کر سچا عاشق رسول اور جاں نثار کون ہوسکتا ہے، اس کے باوجود صحابہٴ کرام نے کبھی بھی اس دن (۱۲/ ربیع الاول) کو عید اور تہوار کے طور پر نہیں منایا، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی تاریخوں میں متعدد اقوال ہیں؛ لیکن وفات کی تاریخ اکثر موٴرخین کے نزدیک ۱۲/ ربیع الاول ہے، اس لیے اسے بارہ وفات بھی کہا جاتا ہے تو ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ اس امت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے سے بڑا المناک سانحہ اور کیا ہوسکتا ہے، اس المناک حادثہ کے دن کو عید اور خوشی کا دن قرار دینا اور ایک دوسرے کو مبارک دینا، نئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا وغیرہ کسی سچے ومحبِ رسول کو کیسے گوارہ ہوسکتا ہے؛ لہٰذا اس متعین تاریخ کو جشن میلاد النبی کے طور پر منانا اور اسے باعث اجر وثواب سمجھنا بدعت ہے: ومن جملة ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذلک من أکبر العبادات وأظہار شرائع یفعلونہ فی شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملة الخ (المدخل ۲/۳بحوالہ محمودیہ ڈابھیل ۳/ ۱۶۵) مستفاد کتاب النوازل ۱/ ۵۱۳․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات