عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 11479

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ میں میں سنی ہوں مولانا احمد رضا کو اللہ کا ولی مانتا ہوں ان کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلتا ہوں۔ میرا عمل یہ ہے کہ میں مزاروں پر حاضر ہوتا ہوں، مزاروں کا بوسہ لیتا ہوں اس پر چادر بھی چڑھاتا ہوں۔ وہاں نیاز فاتحہ بھی کرتا ہوں۔اپنی پریشانی اور دکھ میں صاحب مزار سے مراد بھی مانگتا ہوں۔ کھڑے ہوکر صلوة و سلام پڑھتا ہوں۔ یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتاہوں اور یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اللہ کے حکم سے ہمارے سلام کو سن لیتے ہیں۔ اور غوث پاک کی گیارہویں اور جشن عید میلاد بھی خوب شوق سے مناتا ہوں۔ بتائیں کہ میں مسلمان ہوں یا اسلام سے خارج ہوکر کافر و مشرک بن گیا؟


 نوٹ: واضح رہے کہ ہم لوگ بزرگانِ دین کی پوجا یا عبادت نہیں کرتے اور نہ ہی انھیں خدا مانتے ہیں، بلکہ وہ بندہ خدا ہیں اور خدا کے حکم سے ہماری مدد کرتے ہیں او رہماری پریشانی دور فرماتے ہیں۔برائے کرم آپ قرآن او رحدیث سے حوالہ دیں۔

Published on: Apr 9, 2009

جواب # 11479

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 689=579/د


 


مذکور فی السوال افعال پر بتاویل ہم کفر وشرک کا حکم نہیں لگائیں گے لیکن بعض پر خلاف سنت، مخالف شریعت اور ارتکاب بدعت کا حکم ضرور لگائیں گے جس کی بابت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد متفق علیہ (مشکاة:۲۷) شر الأمور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة (مشکاة: ۲۷)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات