عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 11433

میں دیوبندی ہوں، میرا ایک بریلوی دوست ہے۔ اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا اور کہا کہ میلاد شریف بدعت نہیں ہے۔ اگر یہ بدعت ہوتا تو مدارس، مسجدوں کی محراب، اصول فقہ، اصول حدیث وغیرہ بھی بدعت ہوں گے۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ صرف کچھ دیوبندی لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ بہت ساری چیزیں ہیں جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد سے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانہ سے مسلمانوں کے درمیان بدلتی رہی ہیں۔ وہ مانتاہے کہ غیر اختلافی زمانہ کے بہت سارے علماء کرام جیسے ابن کثیر، ابن تیمیہ اور دوسروں نے لکھا ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے۔ آپ برائے کرم مجھے اس کا اصل سبب قرآن، حدیث اور شریعت کے دوسرے ذرائع کی روشنی میں بتادیں؟

Published on: Apr 9, 2009

جواب # 11433

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 400=377/ب


 


آپ کے بریلوی دوست نے بدعت کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو وہ بدعت ہے۔ درحقیقت بدعت کا صحیح مفہوم انھوں نے نہیں سمجھا۔ بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جو قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو، اوراسے دین کا جز اور عبادت اور کارِ ثواب سمجھ کر کرنا۔ اور نہ کرنے والے پر لعنت وملامت کرنا اور اس کو برا سمجھنا۔ مروجہ رسمی میلاد شریف کرنے والے اسے دین کا کام اور دین کا جز اور کار ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ اس لیے وہ یقینا بدعت ہے۔ اور سب ہی علماء نے اسے بدعت لکھا ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات