معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 535

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے والدین اپنے بچوں کے درمیان دولت اور زمین کی تقسیم میں امتیازی سلوک کریں اور بیٹے کو (جو کہ زندہ ہو) بہت ہی کم حصہ دیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟


(1)     کیا یہ گناہ نہیں ہے؟والدین کو عذاب خداوندی سے بچانے کے لیے بچوں کو کیا کرنا چاہیے؟


(2)     اگر وہ (بچے) سارے اثاثے کو دوبارہ ممکنہ حد تک باہم مساوی طورپر تقسیم کرلیں تو کیا اس سے والدین عذاب الہی سے محفوظ ہوجائیں گے؟


(3)     کیا اولاد کے اس عمل سے ان کو ثواب ملے گا؟


والسلام

Published on: May 30, 2007

جواب # 535

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 282/م=272/م)


 


(1)  باپ کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے درمیان عدل و مساوات کا برتاوٴ کرے اولاد خواہ مذکر ہوں یا موٴنث، بلا کسی وجہ شرعی کے امتیازی سلوک درست نہیں، ہاں اگر ایک کو کم دوسرے کو زیادہ دینے میں پہلے کا اضرار مقصود نہ ہو اور دوسرے کو ضرورت زیادہ ہو یا کوئی اور شرعی وجہ ہو تو بخشش و عطایا میں اولاد کے درمیان کمی زیادتی کی گنجائش ہے کما في الشامي وغیرہ من کتب الفقہ۔


(2) جی ہاں! اگر بچے (مذکر و موٴنث) باپ کے انتقال کے بعد باہم رضامندی سے جائداد مساوی طور پر تقسیم کرلیں تو امید ہے کہ ان شاء اللہ مواخذہ سے بچ جائیں گے۔


(3) یہ عمل تو صرف دفع وبال اور گناہ کو ختم کرنے کے لیے ہوگا، اس کے علاوہ اگر ان کے نام سے ایصال ثواب کرے گا تو ثواب بھی ملے گا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات