معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 368

تقسیم جائداد کے سلسلے میں رہ نمائی چاہتا ہوں۔ میرے دادا نے انڈیا سے ۱۹۴۷ء میں پاکستان ہجرت کی۔ ہندوستان کی جائداد کی دعوی میں ہمارے چچا نے جائداد کا دعوی کیا اور پاکستان میں انھیں ایک مکان مل گیا۔ یہ کل پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ تمام بہنیں اچھی حالت میں ہیں جب کہ سارے بھائی تنگدستی میں ہیں۔ اس جائداد کو1,200,000 روپئے میں فروخت کیا گیا۔ اس جائداد کو فروخت کیے جانے سے قبل ہر بہن جائداد سے اپنے اصل حصے سے پندرہ ہزار روپئے کم لینے پر راضی تھی، لیکن چوں کہ کچھ بھائی اسی گھر میں مقیم ہیں اور گھر کو خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس صورت حال میں ثالثی (جو ایک اثر دار گھرانے سے ہیں) نے خود ہی فیصلہ کیا ہے کہ ہر بہن کے حصے سے تیس ہزار کاٹ لیں گے اور اسے بھائیوں میں تقسیم کردیں گے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس سلسلے میں فتوی عنایت فرمائیں کہ کیا یہ فیصلہ درست ہے ؟ اگر نہیں تو آپ اس کا کیا حل پیش فرمائیں گے؟

Published on: May 3, 2007

جواب # 368

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 454/هـ=668/هـ)


 


(۱) دادا صاحب حیات ہیں یا ان کی وفات ہوگئی؟


(۲) جوجائداد فروخت کی ہے وہ ہندوستان کی ہے یا پاکستان میں ہے؟


(۳) خریدار کون ہے؟


(۴) یہ جائداد کس نے بیچی ہے؟


(۵) بیچنے میں سب کا مشورہ اور رضاء شامل ہے یا نہیں؟


(۶) ثالثی صاحب کو سب نے مل کر حکم بنایا یا از خود وہ یہ فیصلہ نافذ کرتے ہیں؟


یہ سب امور صاف صحیح واضح انداز پر لکھ کر سوال دوبارہ کریں۔


(۷) آئندہ استفتاء سب بھائی بہنوں کی رائے و مشورہ سے ترتیب دیا جائے۔


آئندہ استفتاء کے ساتھ فتویٰ ہذا کی نقل یا پورا حوالہ منسلک کریں تب ان شاء اللہ جواب تفصیل سے لکھ دیا جائے گا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات