معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 363

میرا بھتیجا جائداد میں  اپنے والد کے حق وراثت کا دعوی کررہا ہے۔ میں اس سے متعلق مختصراً واقعات پیش کررہا ہوں کہ آپ اس کی روشنی میں اسلامی نقطہء نظر واضح فرمائیں۔


 


ہم تقسیم ہند و پاک (1947) سے قبل ہندوستان میں ایک فیملی کی طرح ایک گھر میں رہتے تھے، یہ گھر میرے والد کی ملکیت تھا۔ 1946 میں میرے والد کا انتقال ہوگیا اور اگلے سال میرے بھائی کا فسادات میں انتقال ہوگیا۔ (میرا یہ بھتیجا اسی بھائی کا بیٹا ہے)۔ 1947 میں تقسیم ہند و پاک کے بعد ہم نے پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ میری بھابھی (انتقال پانے والے بھائی کی بیوی)، جو اس وقت ہمارے ساتھ رہتی تھیں، انھوں نے انڈیا ہی میں اپنے بھائی کے ساتھ رہ جانے کا فیصلہ کیا اور بعد میں 1952 میں پاکستان آگئیں۔ 1948 میں ہندوستان قیام کے دوران انھوں نے ہندوستانی عدالت میں ہمارے متوفی بھائی کی طرف سے ایک کیس دائر کیا کہ ہمارے والد کی جائداد میں ان کا اور ان کی اولاد کا حق ہے۔ پاکستان میں ہمیں ہندوستانی کورٹ کی طرف سے دو نوٹس ملے کہ ہم کورٹ میں حاضر ہو کر بھابھی کی دعویداری کے خلاف اپنی پوزیشن واضح کریں۔ ان کی اس فائلنگ کے ساتھ ہمارے کچھ مسائل نہیں تھے، اسی لیے ہم نے اس نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا۔


 


1948 میں حکومت پاکستان نے ہندوستان میں جائداد چھوڑ کر پاکستان آنے والے پناہ گزینوں کو معاوضہ دینا شروع کیا۔ میں نے اپنے والد کی جائداد کے عوض میں اپنی والدہ، چھوٹے بھائی، تین بہنوں اور اپنی طرف سے دعوی فائل کیا۔ میں نے انڈین کورٹس سے ملنے والے نوٹس کی بنیاد پر بڑے بھائی کے حصہ کا دعوی نہیں پیش کیا۔ ہم نے یہ سوچا کہ بھابھی علیحدہ سے انڈیا میں والد کی جائداد میں حصہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ میں نے پاکستان میں اپنے اہل و عیال کے لیے جائداد حاصل کی اور اپنے والدہ اور اپنا حصہ ملا کر گھر بنالیا۔ گذشتہ سال میں نے گھر کو بیچ دیا اور والدہ کا حصہ (جو کہ 1975 میں انتقال کرگئیں) اولاد میں تقسیم کردیا، لیکن میں نے اس میں بڑے بھائی کے بچوں کو کچھ نہیں دیا کیوں کہ مجھے یہ معلوم تھا کہ اگر بیٹا ماں کے سامنے فوت ہوجائے تو اس کی اولاد کو دادی کی جائداد میں حصہ نہیں ملے گا۔


 


اب میرا بھتیجا سامنے آیا ہے اور اس نے پاکستان میں حاصل کی جانے والی جائداد میں اپنے والد کے حصے کا مطالبہ کیا ہے۔ میرا اس سے یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں ہم نے جو جائداد حاصل کی وہ ہمارے والد کی جائداد میں ہمارے حصوں کے مقابل میں تھی اور اس میں ہمارے بھائی (اس بھتیجے کے والد) کا حصہ شامل نہیں ہے۔ نیز، بھائی کی طرف سے انڈیا میں حصہ کا دعوی الگ سے بھابھی نے پیش کیا تھا۔ اس کا حق وراثت تو انڈیا میں فائل ہونے والے کیس میں تھا۔ میرا بھتیجا اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انڈیا میں والد کا حصہ پانے کے لیے کیس فائل کیا گیا تھا لیکن وہ کیس کے اختتام تک اس مقدمہ کی پیروی نہیں کرسکے اور کوئی حصہ نہ وصول کرسکے۔ درج بالا بنیادوں پر میرا یہ کہنا ہے کہ میرا بھتیجا اپنے چچا اور چچی کی مملوکہ جائداد میں کسی حصہ کا حق دار نہیں ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس ناکام دعوی کے لیے ذمہ دار ہوں؟ درج بالا حقائق کی روشنی میں اس (بھتیجے) کے حق وراثت کے متعلق اسلامی حکم کی طرف رہ نمائی کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔

Published on: May 23, 2007

جواب # 363

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 503/ب=485/ب)


 


آپ نے پاکستان میں جو جائیداد لی ہے چونکہ وہ اپنی ہندوستان والی جائیداد کے عوض میں لی ہے۔ اور اپنے متوفی بھائی کی جائیداد کے عوض میں نہیں لی، اس لیے آپ کی جائیداد میں آپ کے بھتیجے اور اس کی والدہ کا حصہ نہیں ہے، اور اس کو اپنے حق کا دعویٰ کرنا درست نہیں ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات