معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 1720

میراسوال یہ ہے کہ میرے رشتہ داروں میں ایک فیملی ہے ، اس فیملی میں باپ، ماں ، دوبیٹے اوردو بیٹیاں ہیں ، 400 گز کی جائداد ماں کے نام ہے اور 600 گز باپ کے نام ، براہ کرم، بچوں میں تقسیم جائداد کا حل بتائیں۔ نوازش ہو گی۔

Published on: Oct 4, 2007

جواب # 1720

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 571/ م= 565/ م


 


جائیداد کی تقسیم بطور میراث مورث کے انتقال کے بعد ہوتی ہے، لہٰذا اگر میراث کی تقسیم معلوم کرنی ہے تو جس وقت ماں، باپ یا ان میں سے کوئی ایک انتقال کرجائیں اس وقت ان کے جو ورثہ موجود ہوں ان کی تفصیل لکھ کر اُسی وقت سوال ارسال فرمائیں، اور اگر منشأ سوال یہ ہے کہ ماں، باپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد، اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں تو کس طرح کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی میں جائیداد کی تقسیم ہبہ کہلاتی ہے اور ہبہ میں اپنی تمام اولاد (خواہ مذکر ہوں یا موٴنث) کے مابین مساوات کا حکم ہے، یعنی ایک بیٹے کو جتنا حصہ دیں اتنا ہی ایک بیٹی کو بھی دیں اور بہتر ہوگا کہ والدین پہلے اپنی ضرورت کے بقدر حصہ رکھ لیں پھر بقیہ تقسیم کریں۔ در مختار میں ہے: یعطی البنت کالابن عند الثاني وعلیہ الفتوی۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات