معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 169247

عرض سوال یہ ہے کہ زید اپنی والدہ کے لئے کچھ زیور اس شرط پر خرید کر دیرہا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد وہ زیور اپنی اہلیہ کو دے گا ایسا کرنا شرعی اعتبار سے کیسا ہے ؟ لوگ کہتے ہیں کہ والدہ کا زیور ان کے انتقال کے بعد زید کی بہنوں کا حق ہے ۔ براہ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔عین نوازش ہوگی۔

Published on: Mar 11, 2019

جواب # 169247

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 631-518/D=07/1440



زید جب والدہ کو زیور واپس لینے کی شرط پر دے رہا ہے تو بطور ہبہ (ہدیہ) کے دینا نہیں ہوا جس میں چیز کا مالک بنایا جاتا ہے بلکہ بطور عاریت (برائے استعمال) دینا ہوا جس میں دینے والے کی منشا کے مطابق بس استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے۔



پس صورت مسئولہ میں زید کا والدہ کو زیور دینا بطور عاریت کے ہوا لہٰذا شرط کے مطابق والدہ کے انتقال کے بعد واپس لے کر اپنی بیوی کو دے سکتا ہے اس صورت میں زیور بہنوں کا حق نہیں ہوگا ہاں اگر مالک بناکر دیدے تو پھر والدہ کے انتقال کے بعد زیور ان کا ترکہ ہو جانے کی وجہ سے اس کے بیٹے اور بیٹیوں کا حق ہو جائے گا لوگ جو بات بتلا رہے وہ والدہ کی مملوکہ چیزوں کا حکم ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات