معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 163949

مفتیان کرام عرض یہ ہے کہ ایک صاحب کا انتقال ہوگیا ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ بیوی ماں چار بھائی اور تین بہنیں ہیں کس کو کتنا حصہ ملے گا۔ چچا پھوپی یا ماموں خالہ کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں تفصیل سے بتاکر مشکور و ممنون فرمائیں۔

Published on: Aug 8, 2018

جواب # 163949

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1149-880/sn=11/1439



شخص مذکور نے جو کچھ بھی ترکہ جائداد، پیسہ، زیورات اور دیگر اثاثہ چھوڑا ہے سب کے بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث کل ۱۳۲/ حصے ہوں گے، جن میں سے ۳۳/ حصے بیوی کو ۲۲/حصے ماں کو ۱۴-۱۴/ حصے چاروں بھائیوں میں سے ہرایک کو اور ۷-۷/ حصے تینوں بہنوں میں سے ہرایک کو ملیں گے، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ وغیرہ کو مرحوم ترکہ میں سے کچھ نہ ملے گا۔



نقشہ تخریج حسب ذیل ہے



زوجہ = ۳۳



ماں = ۲۲



بھائی = ۱۴



بھائی = ۱۴



بھائی = ۱۴



بھائی = ۱۴



بہن = ۷



بہن = ۷



بہن = ۷



نوٹ: یہ تقسیم اس تقدیر پر ہے کہ مرحوم نے اپنے والد اور دادا میں سے کسی کوبھی نہیں چھوڑا ہے، اگر صورتِ حال کچھ مختلف ہو تو تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کرلیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات