معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 162288

میرے والد کا انتقال ۱۹۸۶ میں ہوا ہے میری ۲ والدہ ہیں ہم 4 بھائی 2 بہن ہیں بھائی اور بہن کا اور والدہ کا حصہ کتنا بنے گا اور کب کی مالیت پہ بنے گا 1986 یا آج کی کیا فرم کی پونجی میں بھی حصہ بنے گا؟

Published on: Jul 2, 2018

جواب # 162288

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1160-1031/H=10/1439



بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہٴ شرعی آپ کے والد مرحوم کا کل مالِ متروکہ اَسی حصوں میں پر تقسیم کرکے پانچ پانچ حصے مرحوم کی دونوں بیواوٴں کو اور چودہ چودہ حصے مرحوم کے چاروں بیٹیوں کو اور سات سات حصے مرحوم کی دونوں بیٹیوں کو ملیں گے تقسیم کے وقت جائداد وفرم وغیرہ کی جو قیمت ہوگی اس کو ملحوظ رکھ کر تقسیم کی جائے گی بوقت وفات (۱۹۸۶ء) کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات