معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 161688

حضرت، میرے والد نے دو شادی کی ہے۔ اور میرے والد اور دونوں بیوی حیات ہیں۔ پہلی بیوی سے ہم تین بھائی اور ایک بہن ہے۔ اور دوسری بیوی سے تین بیٹیاں ہیں۔ والد صاحب نے اپنے لئے ایک پراپرٹی بچاکر رکھی ہے، اور کہہ رہے ہیں کہ باقی جو پراپرٹی ہے اس میں تم لوگ شریعت کے حساب سے باٹ لو، مجھے اس میں کوئی حصہ نہیں چاہئے۔ مجھے میرے لئے وہ پراپرٹی کافی ہے اور میرے مرنے کے بعد اس کو بھی شریعت کے حساب سے باٹ لینا۔براہ کرم، اب کیسے حصہ لگائیں؟ یہ بتادیں۔
پہلی بیوی سے تین لڑکے ہیں اور ایک لڑکی ہے۔
دوسری بیوی سے تین لڑکیاں ہیں۔ اور دونوں بیویاں حیات ہیں۔ اور والد صاحب نے اپنے لئے ایک پراپرٹی رکھ لی ہے۔

Published on: Jun 7, 2018

جواب # 161688

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 987-896/D=9/1439



وراثت کے اعتبار سے تقسیم تو مرنے کے بعد ہوتی ہے زندگی میں آدمی خود اپنی جائداد کا مالک و مختار ہوتا ہے پھر بھی اگر اولاد اور بیوی کو دینا ہی چاہے تو اسے ہبہ کہیں گے ہبہ میں مستحب ہے کہ سب لڑکے لڑکی کو برابر برابر دیا جائے اور بیوی کو حسب ضرورت دے دیا جائے۔



لہٰذا آپ کے والد خود ہی کچھ حصہ متعین کرکے دونوں بیویوں کو بانٹ کر دیدیں پھر جو بچے اس کے سات حصے کرکے ساتوں لڑکے لڑکیوں کو ایک ایک حصہ دیدیں اور اگر کسی مصلحت کے پیش نظر کسی لڑکے لڑکی کو زیادہ دینا چاہیں تو انہیں اس کا بھی اختیار ہے۔ لیکن ہبہ صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے ہر ایک کا حصہ بانٹ کر الگ الگ کردیا جائے او رہر ایک کو اپنے اپنے حصے پر مکمل قبضہ و دخل دیدیا جائے۔



(۲) جو پراپرٹی والد نے اپنے لئے رکھ لی ہے اسے وہ اپنے تصرف حسب مرضی لاسکتے ہیں البتہ ان کے انتقال کے بعد ان کے موجود ورثاء میں حصص شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات