معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 161665

میرے نانا کی پانچ اولادیں ہیں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ۔ ان میں سے ایک بیٹی (میری والدہ) کا انتقال ہوچکا ہے اور میں ان کی اکلوتی اولاد ہوں ۔ ہمارے نانا نے ایک مکان چھوڑا تھا جو ان کے انتقال کے بعد نانی کے نام ہوگیا ۔ کافی عرصے بعد نانا کے بیٹے یعنی میرے ماموں نے اپنے خرچ پر مکان توڑ کر نئے سرے سے تعمیر کرا دیا اس دوران نانی کی منشا کے مطابق چاروں بہنوں بشمول میری والدہ کے (جو اس وقت حیات تھیں ) نے مکان کے کاغذات پر ماموں کے حق میں وراثت سے دستبردار ہونے کیلیے دستخط کردیے ۔ اب اس مکان کے بکنے کا سودا ہوگیا ہے ۔ اور بہنوں کو اس میں سے کچھ بھی نہیں مل رہا سب لوگ خاندانی رنجش سے بچنے کیلیے مصلحت کے تحت خاموش ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ صورت میں اب بھی بہنوں(بشمول میری والدہ) کا حصہ بنتا ہے ؟ اگر ہاں تو کیا وراثت کے حق سے زبانی یا پھر لکھ کر دینے سے حق ساقط ہو جاتا ہے جبکہ دل میں ایسا ارادہ نہ ہو۔

Published on: Jul 1, 2018

جواب # 161665

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1003-837/B=10-39



بہنوں کے اپنے حصے سے دستبردار ہوجانے سے اور ترکتُ حقی کہنے سے یعنی میں نے فلاں کے حق میں اپنا حصہ ترک کردیا، اس سے بہنوں کا حق ختم نہیں ہوتا ہے، ہندوستان میں ہندوانہ رواج بہت کثرت سے رائج ہے لوگ اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو وراثت کا حصہ دینا نہیں چاہتے، یہ شرعاً صحیح طریقہ نہیں ہے۔ لڑکیاں اور بہنیں اگر وارث ہورہی ہیں تو ان کا حصہ بھی ضرور دینا چاہیے، اپنی بہن کی حق تلفی کرنا بہت گناہ کی بات ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات